Google
 

 

کالم نگاروں کے ساتھ تین روز
تحریر!محمد اکرم خان فریدی
معروف کالم نگار حافظ شفیق الرحمٰن صاحب کے کالم بعنوان ''کالم نگاری کی آڑ میں کیا ہو رہا ہے ''کا مطالعہ کر رہا تھا کہ اسلام آباد سے فون آ گیا کہ امریکی سفارت خانہ کالم نگاروں کو امریکہ میں میڈیا کی آزادی کے بارے میں بریفنگ دے گا جبکہ اگلے روز ایرانی سفارت خانہ میں حضرت عیسٰی علیہ لسلام پر بنائی جانے والی فلم کے ہیرو اور ڈائریکٹر کالم نگاروں سے ملاقات کریں گے ،اپنی اپنی جگہ دونوں پروگرام بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ میں نے کالمسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چئیرمین منو بھائی صاحب کو فون کیا کہ آپ بھی اِس پروگرام میں ہمارے ساتھ چلیں لیکن چونکہ وہ بنگلہ دیش جا رہے تھے اِس لئے میں اکیلا ہی سہ پہر دو بجے اسلام آباد کے لئے روانہ ہو گیا اور شام کو رائیٹر ز ہائوس اسلام آباد پہنچا جہاں کالمسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ممتاز احمد بھٹی و سیکرٹری فارن افئیرز ناصر محمود کھرل اور صوبہ سرحد کے سیکرٹری جنرل یونس مجاز میرے انتظار میں تھے ،اُن سے ملاقات کے بعد ہم بلیو ایریا فوڈ سٹریٹ پہنچے جہاں قرآن آرٹ کے ایم ڈی کرنل عامر رضا ہم سب دوستوں کا انتظار کر رہے تھے ۔کھانا کھانے کے بعد ہم نے پروگرام بنایا کہ ہم آرام کریں تاکہ صبح وقت پر پہنچ کر امریکی سفارت خانہ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں شریک ہو سکیں ۔صبح 8بجے میں اور یونس مجاز صاحب تیار بیٹھے تھے کہ کالمسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان صوبہ سرحد کے صدر جناب نیئر سرحدی اور کالم نگار محترمہ سکینہ گُل صاحبہ تشریف لے آئیں ۔نیئر سرحدی صاحب کے تشریف لاتے ہی میرا موڈ اتنا خوشگوار ہو گیا کہ مسکراہٹ اور خوشی اُس سارے دن کے لئے میرا مقدر بن گئی۔ ہم نیئر سرحدی صاھب ،محترمہ سکینہ گل صاحبہ اور صوبہ سرحد کے دیگر کالم نگاروں الیاس آفریدی،وسیم شاہد،پروفیسر صبیح اورمحترمہ رانی بانو کو ساتھ لے کرمقامِ تقریب کی جانب روانہ ہو گئے وہاں پہنچے توکالمسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ممتاز احمد بھٹی اور امریکی سفارت خانہ کے سینئر اہلکار مقصود احمد شاہین نے ہم سب کا پُرتپاک استقبال کیا ۔وہاں زیادہ تر اسلام آباد کے کالم نگار موجود تھے جن میں رضوانہ سید علی ،راناابرار احمد،ڈاکٹر مرتضیٰ مغل،اعجاز احمد،ناصر محمود کھرل،بشارت کھوکھر،فرح دیبا،کرنل عامر رضا،راحیلہ،وقار خان،احسن پریمی ،ممتاز احمد خاکسار،سلطان محمود شاہین،حنان علی،طارق خان ، عمران بشیر،عمیر سطی،آصف قریشی،عدیل جاوید،ہمایوں شاہ،اور انکے علاوہ بہت سارے دیگر کالم نگار بھی موجود تھے ۔تمام کالم نگار وں نے ایک دوسرے کے ساتھ ملاقات کی اور بعد میں امریکی سفارت خانہ کے اہلکار مقصود احمد شاہین نے بہت اچھے انداز میں کالم نگاروں کو ایک معلوماتی بریفنگ دی،ابھی انہوں نے اپنی بریفنگ ختم نہیں کی تھی کہ امریکی سفارت خانہ کے پریس اتاشی ''مسٹر لوفنٹر'' ھال میں داخل ہوئے جنکو مسٹر مقصود احمد شاہین نے خوش آمدید کہا اور انہیں بریفنگ کے لئے ڈائس پر بلا لیا ۔ امریکی سفارت خانہ کے پریس اتاشی ''مسٹر لوفنٹر''نے کالم نگاروں کو بریفنگ دیتے ہوئے اِس بات پر بے حد زور دیا کہ میڈیا کی آزادی امریکہ کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے اور امریکہ کی میڈیا کی آزادی کے لئے کی جانے والی کاوشیں قابلِ تعریف ہیں۔مسٹر لوفنٹر کی یہ بات کہ امریکہ پریس کی آزادی چاہتا ہے کوئی دل کو نہیں بھائی اسکی سب سے بری وجہ یہ تھی کہ میرے زہن میں بہت سارے ایسے واقعات آ گئے جن سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ ابھی امریکی صحافتی آزادی کے حق میں نہیں ہے۔ جیسا کہ ایک عراقی صحافیMr.Dahr Jamail مئی2004ء کو کہتے ہیں کہ Yesterday at 5:30pm I tried to approach U.S. soldiers who had sealed off the Abu Hanifa Mosque in Al-Adhamiya, Baghdad. Holding my press badge up in the air, in loud, clear English from about 50 feet away I yelled to a soldier sitting behind a machine gun on a Bradley, “I am press! May I please get a comment from one of you about what the goal of your operation is here?”Before I finished that sentence a soldier standing near the armored vehicle pulled his M-16 to his shoulder and held me in his sights. With a wave of adrenaline I yelled, “I am press! I just want to get a comment from someone!”Two soldiers gestured their heads“no”with their heads while another waved me away, all the while the soldier kept his gun trained on me.
Freedom of the press in the ‘New Iraq’
اسکے علاوہ اسرائیلی حکومت یا فوج جوکہ امریکہ کی آشیر باد پر دنیا میں دہشت کی علامت بنی ہوئی ہے اُن کی جانب سے بھی پریس کی آزادی کے خلاف اقدامات عروج پر ہیں۔انٹرنیشنل مڈل ایسٹ میڈیا سنٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق ''
1)The Israeli attacks included limited or blocking the freedom of movement of the reporters, and targeting several reporters. One of the main violations was the killing of reporter Fadil Shana’a, a Reuters cameraman who was shot by the Israeli forces.

2)On May 16, Israeli soldiers shelled a Reuters vehicle and killed cameraman Fadel Shana’a. Reuters soundman Wafa Abu Mizyed was injured in the attack.
3)2007 was the peak of attacks against reporters and the freedom of press as armed clashes in Gaza affected reporters and media agencies. Gunmen surrounded dozens of reporters of local and international agencies in Ramattan Media Agency headquarters in Gaza and caused damage to several agencies. Some agencies had to stop working for several months after gunmen detonated their headquarters, broke into other headquarters and even stole equipment.
یہ تو تھیں کچھ رپورٹس جوکہ امریکہ کی آشیر باد پر چلنے والے اسرائیل کی طرف سے جاری جارحیت کی نشاندہی کر رہی ہیں ۔ امریکی سفارت خانہ کی جانب سے کالم نگاروں کو دی جانے والی بریفنگ میں نیئر سرحدی صاحب،محترمہ رضوانہ سید صاحبہ،بشارت کھوکھر صاحب اور دیگر کالم نگاروں نے بھی اِس قِسم کے واقعات کی نشاندہی کی اور مسٹر لوفنٹر سے سوالات پوچھے جس پر مسٹر لوفنٹر نے تمام سوالات کے جوابات دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کی ،کالم نگاروں میں سے بعض لوگ تو مسٹر لوفنٹر کے جوابات سے مطمئین ہوئے لیکن بعض لوگ غیر مطمئین نظر آئے انکے خیال میں امریکہ میں میڈیا آزاد نہیں بلکہ اسکا دوہرا معیار ہے ۔کالم نگاروں کے خیال میں امریکہ میں میڈیا اُس وقت آزاد نظر آئے گا جب دوہرا معیار ختم کر دیا جائے گا ،عراق یا افغانستان میں اگر امریکی فوجی بھی مارے جائیں تو میڈیاکو اُن تک بھی رسائی دی جائے تاکہ انکی تصاویر بھی دنیا تک دکھائی جا سکیں ۔بہر حال یہ تو بہت لمبی بحث ہے جسکے لئے امریکی سفارت خانہ کے پریس اتاشی مسٹر لوفنٹر نے عنقریب کالمسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان اور امریکی سفارت خانہ کی مشترکہ تین روزہ ورکشاپ کروانے کا اعلان کیا ہے یہ ساری بحث اُن تین روز میں مکمل ہو سکتی ہے ۔بہر حال میں تو یہی کہوں گا کہ امریکی سفارت خانہ کی جانب سے کالم نگاروں کو دی جانے والی بریفنگ ایک اچھا اقدام ہے اور ایسے پروگراموں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے لیکن زمینی حقائق کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ابھی تک میڈیا مکمل طور پر آزاد نظر نہیں آتا ،اور اُمید ہے کہ امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میڈیا کی آزادی کے لئے مثبت اقدامات بروئے کار لائے گی۔
امریکی سفارت خانہ کی بریفنگ کے بعد اگلے روز ہماری نادر طالب زادہ سے ملاقات تھی۔نادر طالب زادہ ایرانی فلم انڈسٹری کے فلم ڈائریکٹر ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی حیاتِ مبارکہ پر ایک مفصل فلم بنائی ۔ہم سب کالم نگار جب ایرانی کلچرل قونصلیٹ پہنچے تو وہاں موجود ایرانی کلچر قونصلیٹ،پریس اتاشی ،حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے لئے بنائی جانے والی فلم کے ہیرو،اور ایرانی سفارت خانہ کے سٹاف نے انتہائی والہانہ انداز میں استقبال کیا ۔کلچرل قونصلیٹ کے فرسٹ فلور پربنے ہوئے ڈرائینگ روم پر جانے سے قبل باہر پڑے ریک میں جوتے اُتار کر رکھنے پڑتے ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے کچھ بھائیوں نے جوتے اتارے اور ریک میں نہیں رکھے لیکن مجھے رشک ہے ایرانی قوم پر کہ سفارت خانہ میں موجود انکے آفیسران نے خود اپنے ہاتھوں سے کالم نگاروں کے جوتے اُٹھائے اور ریک میں رکھ دیا ۔ایرانی فلم انڈسٹری کے فلم ڈائریکٹر نادر طالب زادہ کے ساتھ یہ ملاقات انتہائی یادگارثابت ہوئی اور میں نے فیصلہ کیا کہ ایرانی قوم اور ایران کے کلچر کا بغور مشاہدہ کیا جائے۔کیونکہ انکے کلچر ،اخلاق اور گفتگو میں بہت خوبصورتی نظر آئی ۔بہر ھال میں ایران ایمبیسی کے پریس اتاشی کا بے حد مشکور ہوں ہوں جنہوں نے کالم نگاروں کے لئے اتنی خوبصورت ملاقات کا نتظام کیا۔
نیشنل لائبریری کے ڈائریکٹر جنرل نزیر احمد چوہدری اور کورڈینیٹر محترمہ راحیلہ نے بھی کالم نگاروں کونیشنل لائبریری اسلام آباد کا دورہ کروایا اور اُن کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ دانشور طبقہ لائبریریوں کے شعور کو اُجاگر کرنے کے لئے حکومت کی مدد کریں۔انہوں نے بتایا کہ لائبریریز کا شعبہ 1973ء میں کراچی میں قائم ہواجو کہ 1981 ء میں اسلام ؤباد شفٹ ہو گیا ،اسلام آباد پبلک لائبریری،ماڈل چلڈرن لائبریری اور اسلام آباد کمیونٹی لائبریریزبھی ا،سی شعبہ کے تحت خدمات انجام دے رہی ہیں۔نیشنل لائبریری اسلام آباد کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 1985ء میں 130.322ملین روپے کی لاگت سے قائم کی جانے والی اِس لائبریری کا 24اگست1993ء کو وزیر اعظم پاکستان نے افتتاح کیا جس میں 12مختلف قسم کی سروسز دی جارہی ہیں۔بچوں میں مطالعہ کا شعور اجاگر کرنے کے لئے ماڈل چلڈرن لائبریری اسلام آباد 1991ء میں قائم کی گئی جس میں 8885بچوں کی رجسٹریشن کی گئی ہے ۔اسلام آباد میں بھی پبلک لائبریری نہ تھی جبکہ یکم جولائی 1996ء کو اسلام آباد پبلک لائبریری کی بھی بنیاد رکھ دی گئی جس سے 3400ریگولر ممبرز مستفید ہو رہے ہیں۔اسلام آباد کی کمیونٹی میں مطالعہ کا شعور اجاگر کرنے کے لئے سیکٹرG-7,G-8,i-8اور F-11میں اسلام آباد کمیونٹی لائبریریز خدمات انجام دے رہی ہیں۔
نیشنل لائبریری کے دورہ کے دوران کالم نگاروں نے موجودہ ڈائریکٹر جنرل چوہدری نذیر اورکوآرڈینیٹرمِس راحیلہ کی اِس شعبہ کے لئے ادا کی جانے والی خدمات کو بے حد سراہا اور اِس بات پر زور دیا کہ موجودہ حکومت کی بھی اولین ترجیح ہونی چاہئے کہ شعبہ لائبریریز میں مزید سہولتوں کی فراہمی کے لئے اس شعبہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
محمد اکرم خان فریدی (کالم نگار)


 

© www.ujaalanews.com
All rights reserved. Reproduction or misrepresentation of material available on this web site
in any form is infringement of copyright and is strictly prohibited.